New Urdu short story with imeges

 نوعمری کی شادی

New Urdu short story with imeges
New Urdu short story with imeges 

ایک دن مینا آموں سے بھری ہوئی ٹوکری لے کر اپنی کزن عاشی کے گھر جا رہی تھی ۔ ہمیشہ کی طرح اس کا طوطا مٹھو اس کے ساتھ تھا۔

راستے میں اس نے گاؤں کے دوکاندار کو دیکھا۔ وہ خوشی سے جھومتے ہوئے خود سے باتیں کر رہا تھا کیونکہ اس نے اپنے بیٹے کی شادی کے لئے ایک خوبصورت نو جوان دلہن ڈھونڈ لی تھی۔ لڑکی گھر کا سارا کام کاج کر دے گی اور اس کے لئے مجھے اسے کچھ دینا بھی نہیں پڑے گا وہ ہنسا۔

New Urdu short story with imeges
New Urdu short story with imeges 

مینا بہت پریشان ہوئی جب اسے پتہ چلا کہ وہ نوجوان دلہن عاشی ہوگی۔ عاشی صرف 15 سال کی تھی اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کیسے اپنے والدین کو یہ بتائے کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ مینا نے کہا کہ اس سلسلے میں دادی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔

دادی نے اپنے بیٹے سے بات کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے عاشی کے والد کو بتایا کہ اشی کی عمر بھی شادی کی نہیں ہے۔ ان کا اپنا بچہ 15 سال کی عمر میں پیدا ہوا تھا اور اس کی موت ہوگئی تھی، اور دادی بھی اس صدمے سے نڈھال موت کے قریب پہنچ گئی تھی۔ وہ نہیں چاہتی کہ عاشی بھی اس تکلیف سے گزرے۔

New Urdu short story with imeges
New Urdu short story with imeges 

مگر عاشی کے والد فکر مند تھے۔ وہ اتنے اچھے رشتے کو چھوڑ نا نہیں چاہتے تھے۔ دوکاندار کا بیٹا بابو، ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اور دوکاندار جلد شادی کے لئے بضد تھا۔ کیا کیا جا سکتا تھا؟

a short story in urdu

گھر واپسی پر مٹھو کو ایک حادثہ پیش آیا تھا۔ بابو کے گاؤں واپس آنے کی خوشی میں جو سجاوٹ کی گئی تھی وہ اس میں الجھ گیا تھا۔

دوکاندار نے اس کا پیچھا کیا اور مٹھوسر کے بل زمین پر گر گیا۔

New Urdu short story with imeges
New Urdu short story with imeges 

جب مینا نے اسے دیکھا تو وہ زمین پر بے حس و حرکت پڑا ہوا تھا۔ مینا نے سوچا کہ وہ مر رہا ہے۔ مینا ، اس کے بھائی راجو اور عاشی نے اسے اٹھانے کی بہت کوشش کی۔

bachon ki kahaniyan in urdu

کیا معاملہ ہے؟ ایک اچانک ان لوگوں نے ایک نوجوان نے پوچھا۔

New Urdu short story with imeges
New Urdu short story with imeges 

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نوجوان جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے کیونکہ اس نے مٹھو کا معائنہ کیا اور اس کے سر کے گرد پٹی باندھی ۔ جلد ہی مٹھو اٹھ بیٹھا۔

مینا اور راجو بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس نوجوان کا شکریہ ادا کیا۔ عاشی شرم سے سرخ ہو گئی جب اس نے اس نو جوان کو دیکھا۔

New Urdu short story with imeges
New Urdu short story with imeges 

راجو نے یہ جاننے کے لئے کہ وہ نو جوان کون ہے اس کا پیچھا کیا۔ اس نے دیکھا کہ دوکاندار نے پر جوش انداز میں اس کا استقبال کیا تھا۔ " ابو میرے بیٹے ، آؤ! میرے پاس تمہارے لئے ایک اچھی خبر ہے ۔ دوکاندار چلایا۔

New Urdu short story with imeges
New Urdu short story with imeges 

مگر جلد ہی دوکاندار کی خوشی غصے میں بدل گئی جب بابو نے اس کے لئے پسند کی گئی لڑکی سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا ۔ وہ بہت چھوٹی ہے ۔ 18 سال سے کم عمرلڑ کی کی شادی کرنا قانون کے خلاف ہے، اور ا عمر کی لڑکی کاما بنا بھی غیر محفوظ ہے“

New Urdu short story with imeges
New Urdu short story with imeges 

جب مینا کو پتہ چلا کہ وہ ڈاکٹر کون ہے تو اس نے اسے عاشی کے متعلق بتایا کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے۔ بابو راضی ہو گیا کہ عاشی کو اپنی تعلیم مکمل کرنی چاہیے۔


بابو نے عاشی کے والدین سے ملاقات کی اور انہیں اس بات پر رضامند کیا کہ عاشی کی ابھی شادی کی عمر نہیں ہے وہ بہت چھوٹی ہے۔

اسی وقت دادی نے مشورہ دیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ابھی عاشی اور بابوکی منگنی کر دی جائے اور شادی تین سال بعد کی جائے ۔ اسی دوران وہ دونوں اپی تعلیم مکمل کرلیں گے۔دوکاندار اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا تھا س لئے وہ بھی اس بات پر رضا مند ہو گیا۔

moral stories in urdu pdf

Post a Comment

0 Comments

Copyright (c) 2019 husband wife love All Right Reseved